سال 2021 ،خیبر پختونخوا میں کورونا کے باوجود کھیلوں کے میدان آباد رہے

Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

پشاور(رپورٹ عاصم شیراز)2021 کی آخری شام کا سورج بھی غروب ہوگیا اور نئے سال کے پہلے روز کا سورج طلوع ہوگیا’2021 جیسے ہماری زندگیوں میں کئی خوشگوار اور کئی تلخ یادیں لئے گزر گیا اب نئے سال کا آغاز ہو چکا ہے’2021 دیگر شعبوں کیساتھ کھیلوں کے لئے اور خاص طور پر خیبرپختونخوا میں کھیلوں کے لئے بہت اچھا سال رہا جہاں چھوٹے بڑے بے شمار ایونٹس منعقد ہوئے کورونا وائرس کے ایس او پیز پر عمل درآمد کرتے ہوئے بھی ایونٹس کا انعقاد کیا جاتارہا اور کھلاڑیوں کو پریکٹس کی اجازت ایس او پیز کے تحت ملی اور جب کورونا وائرس کا زور ٹوٹا اور پابندیاں ہٹا دی گئیں تو خیبرپختونخوا بھر میں کھیلوں کے ایونٹس کا انعقاد ہوا انڈر21 گیمز’انڈر16 ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام’نیشنل جونیئر انڈر16 گیمز، قبائلی اضلاع سپورٹس فیسٹول،انٹرنیشنل باکسنگ مقابلے،نیشنل ہاکی لیگ، انٹر سکولز کرکٹ ٹورنامنٹ’ انڈر21 انٹر ڈسٹرکٹ گیمز’نیشنل ایونٹس میں جوڈو’ٹیبل ٹینس’بیڈمنٹن سمیت دیگر کھیلوں کے ایونٹس ہوئے ان میں ٹینس’رسہ کشی ‘مارشل آرٹس مقابلے’آل پاکستان ہاکی لیگ’سکواش ‘آرچری ‘فٹسال ‘بیس بال ‘ والی بال’باسکٹ بال’ ایتھلیٹکس’کبڈی جیسے کھیل بھی شامل ہیں’ان مقابلوں میں کھلاڑیوں نے اپنی بہترین صلاحیتوں کا لوہا منوایا ‘میڈل ونرز کو نقد انعامات سے نوازا گیا ‘بڑی تعداد میں کھلاڑیوں کو سکالر شپس دی گئیں اور اس کیساتھ تمام ایونٹس میں شرکت کرنیوالے کھلاڑیوں کو ہر موقع پر کٹس ‘کھیلوں کا سامان اور بہترین سہولتیں فراہم کی گئیںاس کیساتھ کھیلوں کی ایک ہزار سہولیات پراجیکٹ کے تحت ایک سو پچاس سے زائد منصوبے مکمل ہوئے اور دیگر اربوں روپے کے منصوبے صوبہ بھر میں جاری ہیں ان میں بڑے منصوبوں میں پشاور کے ارباب نیاز کرکٹ سٹیڈیم اور حیات آباد کرکٹ سیڈیم کی تعمیر و تزئین و آرائش شامل ہیں جبکہ اس کیساتھ پشاور سپورٹس کمپلیکس’حیات آباد سپورٹس کمپلیکس’چارسدہ’مردان اور دیگر اضلاع میں سپورٹس کمپلیکس کی تعمیر و تزئین وآ رائش جیسے منصوبے شامل ہیں’ یونین کونسل سطح پر کھیلوں کی سہولیات کی منظوری دی گئی ہے جبکہ ٹیلنٹ پروگرام شروع کیا جائے گا۔تحصیل سطح پر انڈر 21 گیمز میں 11 ہزار کھلاڑیوں نے ایتھلیٹکس، بیڈمنٹن فٹ بال، کبڈی، والی بال اور رسہ کشی،ریجنل سطح پر 11 ہزار 900 کھلاڑیوں نے ہاکی، ٹیبل ٹینس، جوڈو، کراٹے، تائیکوانڈو، ریسلنگ، باسکٹ بال، جمناسٹک، ووشو اور ویٹ لفٹنگ جبکہ 2624 خواتین کھلاڑیوں نے بیس بال، ہینڈ بال، ٹینس، آرچری، فٹسال، سوئمنگ، سائیکلنگ، سنوکر، کراٹے، باڈی بلڈنگ، باکسنگ، سکواش اور چک بال میںحصہ لیا۔ خصوصی افراد کے لئے 28ویں قومی کھیلوں کا انعقاد کیا گیا 550 کھلاڑیوں نے 34 ایونٹس میں حصہ لیا۔ سکواش کی بحالی کے لئے انڈر 13 ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام میں 150 کھلاڑیوں نے حصہ لیا، خواجہ سرائوں اور پست قامت افراد کے لئے بھی گیمز کا انعقاد کیا گیا 180 خواجہ سرائوں نے 10 گیمز جبکہ 26 پست قامت افرادنے ایتھلیٹکس، کرکٹ، سائیکلنگ، رسہ کشی، ووڈ بال، بیڈمنٹن، ٹیبل ٹینس، فٹ بال، باسٹک بال اور رسہ کشی میںشرکت کی۔ انڈر 16 قومی چیمپئن شپ کا انعقاد کیا گیا جس میں چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد جموں وکشمیر کے مرد کھلاڑیوں نے سات اور خواتین کھلاڑیوں نے چار گیمز میں حصہ لیا۔ پہلی بار منعقدہ ہاکی لیگ میں ضم اضلاع سمیت سات ٹیموں نے حصہ لیا ٹیموں میں 32 اولمپئن اور بین الاقوامی کھلاڑی شامل تھے۔ بین الصوبائی ایتھلیٹکس میٹ میں چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر سے 200 مرد وخواتین کھلاڑیوں نے حصہ لیا’ خیبرپختونخوا نے 14 میڈلز کے ساتھ دوسری پوزیشن حاصل کی۔ خواتین کے عالمی دن کے موقع پر قومی خواتین فٹسال چیمپئن شپ کھیلی گئی جس میں ملک بھر سے 14 ٹیموں نے حصہ لیا۔ ایشین گولڈ میڈلسٹ باکسر عثمان وزیر کے ساتھ انٹرنیشنل باکسنگ ایونٹ کرایا گیا جس میں پاکستان، ایران اور افغانستان کے باکسرز شریک ہوئے۔ انٹر سکولز انڈر 16 کرکٹ ٹورنامنٹ میں 276ٹیموں نے حصہ لیا۔ کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے لئے سکالرشپ پروگرام شروع کیا گیا جس کے تحت انڈر 16 ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام میں میڈلسٹ 107 کھلاڑیوں، انڈر 21 گیمز کے 1100 کھلاڑیوں کو ماہانہ وظیفہ دیا جارہا ہے۔ انڈر 21 گیمز کے فاتح کھلاڑیوں کے لئے 15 روزہ تربیتی کیمپ لگایا گیا، کھلاڑیوں میں عالمی معیار کا کھیلوں کا سامان تقسیم کیا گیا، بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت کے لئے جانے والے کھلاڑیوں کو ٹکٹ اور دیگر سہولیات فراہم کی گئیں۔ انڈر 21 انٹر ڈسٹرکٹ گیمز میں ہاکی، ٹیبل ٹینس، جوڈو، کراٹے، تائیکوانڈو، ریسلنگ، باسکٹ بال، جمناسٹک، ووشو اور ویٹ لیفٹنگ میں ہزاروں کھلاڑیوں نے جبکہ خواتین نے والی بال، نیٹ بال، اتھلیٹکس، رسہ کشی، بیڈمنٹن، ٹیبل ٹینس اور کرکٹ میں حصہ لیا۔کھیلوں کی سہولتوں کی بہتری کے منصوبے پر نظر ڈالی جائے تو چارسدہ میں 87 ملین روپے ، اسلامیہ کالج یونیورسٹی میں 91 ملین کی لاگت سے ہاکی سٹیڈیم مکمل کئے گئے ہیں، کوہاٹ میں 91 ملین، ڈیرہ اسماعیل خان میں 91 ملین روپے کی لاگت سے آسٹرو ٹرف بچھائی گئی ہیں۔ سوات میں 99 ملین روپے کی لاگت سے ہاکی سٹیڈیم مکمل کیا جارہا ہے جبکہ باجوڑ اور پاڑہچنار میں 130 ملین ، نوشہرہ میں 123 ملین اور ایبٹ آباد میں 115.21 ملین روپے کی لاگت سے ہاکی سٹیڈیم بنائے جارہے ہیں۔ نان اے ڈی پی سکیم کے تحت بونیر، مالاکنڈ اور دیر پایان میں بھی ہاکی سٹیڈیم بنائے جائیں گے۔ قیوم سٹیڈیم پشاور، مردان اور بنوں میں کرکٹ گرائونڈ موجود ہیں جبکہ بونیر، مالاکنڈ اور دیر پایان میں نان اے ڈی پی سکیم کے تحت گرائونڈ بنانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ ایبٹ آباد میں تین، کوہاٹ میں سات، خیبر میں سات، مردان میں تین، صوابی میں تین، شمالی وزیرستان میں تین، سوات میں چھ، بنوں میں دو، نوشہرہ میں دو، ہری پور میں چھ، مانسہرہ میں دو، باجوڑ میں دو، جنوبی وزیرستان میں تین، اورکزئی میں ایک، کرم میں دو، مہمند میں دو، ڈیرہ اسماعیل خان میں تین کرکٹ گرائونڈز موجود ہیں۔ ارباب نیاز کرکٹ سٹیڈیم پشاور کی اپ گریڈیشن جاری ہے جس پر 1944 ملین روپے خرچ کئے جارہے ہیں 60 فیصد کام مکمل ہوگیا ہے جون 2022 تک سٹیڈیم مکمل کیا جائے گا جس میں تماشائیوں کی گنجائش 14 ہزار سے بڑھا کر 29 ہزار کی جائے گی جبکہ آئوٹ ڈور، انڈور اکیڈیمیاں اور سوئمنگ پول بھی بنائے جارہے ہیں۔ 994 ملین روپے کی لاگت سے حیات آباد کرکٹ گرائونڈ میں توسیعی کام جاری ہے 65 فیصد کام مکمل ہوگیا ہے پویلین کو آئی سی سی معیار کے مطابق بنایا جارہا ہے دیگر سہولیات کے علاوہ سات ہزار تماشائیوں کی گنجائش ہوگی۔ سوات میں 1145.551 ملین روپے کی لاگت سے کرکٹ سٹیڈیم بنایا جارہا ہے جسے جون 2024 تک مکمل کیا جائے گا۔ کالام میں 2467 ملین روپے کی لاگت سے کرکٹ گرائونڈ بنایا جارہا ہے جسے جون 2024 تک مکمل کیا جائے گا۔ سکواش کے فروغ کے لئے گورنمنٹ ہائی سکول نوے کلے، جی ایچ ایس نمبر ون اور گلبہار، اسلامیہ کالجیٹ سکول، بے نظیر وویمن یونیورسٹی، لیڈی گرفتھ سکول، فرنٹیئر کالج برائے خواتین، گورنمنٹ کالج اور جناح کالج برائے خواتین پشاور میں کورٹس بنائے گئے ہیں۔ حیات آباد سپورٹس کمپلیکس میں 3 ڈی سکواش کورٹ کے لئے 100 ملین روپے منظور کئے گئے ہیں 40 فیصد تعمیراتی کام مکمل ہوگیا ہے۔کوہاٹ میں 262 ملین روپے کی لاگت سے سپورٹس کمپلیکس مکمل کیا گیا ہے، ڈیرہ اسماعیل خان سپورٹس کمپلیکس میں ہاکی ٹرف، ٹارٹن ٹریک، بنوں میں ہاکی ٹرف اور ٹارٹن ٹریک، مردان میں ہاکی ٹرف، چارسدہ میں ہاکی ٹرف بچھائی گئی ہے، ہری پور میں سوئمنگ پول، ایبٹ آباد میں سپورٹس کمپلیکس، بنائے جارہے ہیں، حیات آباد سپورٹس کمپلیکس میں ٹریک اور فٹ بال گرائونڈ بنائے جارہے ہیں جبکہ خواتین کے لئے انڈور جم بھی بنایا گیا ہے۔ کرک، دیر پایان میں گرائونڈ بنانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے، خواتین کے لئے مخصوص جمز بنائے جارہے ہیں، تحصیل سطح پر 57 گرائونڈ بنائے گئے ہیں، پشاور میں سپورٹس سٹی کے قیام کے لئے فزیبلٹی مکمل کی گئی ہے ، تیز تر عملدرآمد پروگرام کے تحت ضم اضلاع میں کھیلوں کی ایک ہزار سہولیات کا بندوبست کیا جارہا ہے۔