پشاور فالکنز نے خیبر پختونخوا نیشنل ہاکی لیگ جیت لی

Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

پشاور (سپورٹس رپورٹر) پشاور فالکنز نے بنوں پینتھرز کو ایک کے مقابلے میں دو گول سے شکست دیکر پہلی بینک آف خیبر، خیبر پختونخوا ہاکی لیگ جیت لی، ٹرائبل لائنز تیسری پوزیشن کے میچ کھیلنے نہیں آئی جس نے سیمی فائنل میں امپائر کے فیصلے پر احتجاج کرتے ہوئے لیگ چھوڑی تھی جس پر کوہاٹ ایگلز کو تیسری پوزیشن کا حقدار قرار دیا گیاپشاور کے ابوبکر کو انفرای 14 گول کرنے پر مین آف دی لیگ قرار دیا گیا۔ وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی اطلاعات واعلیٰ تعلیم اور سیکرٹری کھیل عابد مجید نے کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم کئے، ڈائریکٹر جنرل سپورٹس اسفندیار خٹک اور دیگر حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔ لالہ ایوب ہاکی سٹیڈیم میں کھیلے لئے فائنل کے پہلے دو کوارٹرز بغیر کسی گول کے برابر رہے تیسرے کوارٹر اور میچ کے مجموعی 45 ویں منٹ میں بنوں کے معین شکیل نے فیلڈ گول کرتے ہوئے ٹیم کو برتری دلا دی تاہم وہ ایک منٹ سے زیادہ برقرار نہ رہی جب پشاور کے نوخیز ملک ایک ہی منٹ بعد فیلڈ گولڈ کرتے ہوئے مقابلہ ایک ایک گول سے برابر کر دیا۔ 56 ویں منٹ میں پشاور کو پینلٹی کارنر ملا جسے ضائع کیا گیا لیکن بنوں کے کھلاڑی کے فائول کی وجہ سے پشاور کو ایک اور پینلٹی کارنر دیا گیا جس پر وہ گول کرنے میں کامیاب ہوا اور یوں لیگ جیت لی۔ لیگ کے میچوں کی طرح فائنل میں بھی امپائرنگ ناقص رہی اور پہلے سے چہ میگوئیاں ہو رہی تھیں کہ پشاور ہی کو فتح دلوائی جائے گی، یہ چہ میگوئیاں بھی ہوتی رہیں کہ پشاور کے 13 کھلاڑی (اشارہ دو امپائرز کی طرف) اور بنوں کے 11 کھلاڑی کھیل رہے ہیں۔ایک موقع پر امپائر پشاور فالکنز کو پینلٹی کارنر دیا اور کھیل بھی جاری رہا آخری لمحات میں پشاور کو پینلٹی کارنرز دینے پر بنوں کا ایک کھلاڑی کافی دیر تک امپائر کے ساتھ بحث کرتا رہا۔فاتح ٹیم کو 10 لاکھ، رنرز اپ کو 5 لاکھ،تیسری پوزیشن لینے والی ٹیم کو 3 لاکھ روپے انعام دیا گیا۔لیگ میں آٹھ ٹیموں بنوں پینتھرز، ڈی آئی خان سٹالینز، مردان بیئرز، کوہاٹ ایگلز، ہزارہ واریئرز، پشاور فالکنز، ٹرائبل لائنز اورمالاکنڈ ٹائیگرز نے حصہ لیا۔آرگنائزنگ کمیٹی نے چار بار شیڈول تبدیل کیا ، میچوں کے وقت اور مقامات بھی تبدیل کئے گئے، کئی ٹیم مالکان پہلے ہی کمیٹی پر اعتراضات اٹھا چکے تھے لیکن آرگنائزنگ کمیٹی غیر جانبدارہونے کی بجائے پشاور فالکنز کے لئے راہ ہموار کرتی رہی۔