کھیلوں کی ایک ہزار سہولیات،اورکزئی میں مختلف منصوبوں کا جائزہ

Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

کھیلوں کی ایک ہزار سہولیات،اورکزئی ایجنسی میں مختلف منصوبوں کا جائزہ
150 منصوبے 30 جون 2021 تک مکمل کر لئے جائیں گے، پراجیکٹ ڈائریکٹر مراد علی مہمند
پشاور(سپورٹس رپورٹر)محکمہ کھیل خیبرپختونخوا کے میگا پراجیکٹ کھیلوں کی ایک ہزار سہولیات پرکام تیزی سے جاری ہے اور مختلف منصوبے تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں ،اسی سلسلے میں پراجیکٹ ڈائریکٹر مراد علی مہمندنے اپنی ٹیم انجینئرنگ ونگ کے چیف انجینئر احمد علی، انجینئر پارس احمد ، تنویر خان ،عمرشہزاد کے ہمراہ ضلع اورکزئی میں جاری کھیلوں کے مختلف منصوبوں کا جائزہ لیا،ڈائریکٹر پراجیکٹ مراد علی مہمند نے کمشنر کوہاٹ سے بھی ملاقات کی اورضلع اورکزئی میں جاری کھیلوں کے منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا’1000 پراجیکٹس کے بارے میں سیکرٹری سپورٹس عابد مجید’ایڈیشنل سیکرٹری سپورٹس جنید خان اور ڈی جی سپورٹس اسفندیار خان خٹک بھرپور دلچسپی لے رہے ہیں اور وہ خود ان منصوبوں کی مانیٹرنگ کررہے ہیں’پراجیکٹ ٹیم نے شکر تنگی گرائونڈ سمیت دیگر منصوبوں کا جائزہ لیا ‘ڈائریکٹر پراجیکٹ مراد علی مہمند کا کہنا تھا کہ 150 منصوبے 30 جون 2021 تک مکمل کر لئے جائیں گے انجنیئرونگ جلد ہی نئے منصوبوں کے بارے میں بھی اپنی رپورٹ منظوری کے لئے پیش کریگا جس میں نئے منصوبوں کی منظوری بھی دی جائے گی انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ محمود خان کی ہدایات کی روشنی میں صوبہ بھر میں کھیلوں کی سہولتوں کی فراہمی یقینی بنانے کے لئے اقدامات کئے جارہے ہیں ‘انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ محمود خان نے بروقت منصوبوں کی تکمیل کی ہد ایت کررکھی ہے اور ان کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے تمام منصوبوں پر کام تیزی کیساتھ جاری ہے ۔انہوں نے بتایا کہ صوبہ بھر میں اس وقت نئے چار جمنازیم تعمیر کئے جارہے ہیں ان کے ساتھ پچیس بیڈمنٹن ہال ’14 پولو گرائونڈز’چار والی بال’باسکٹ بال کورٹس ‘اٹھارہ کرکٹ اکیڈمیاں’اکتالیس پلے گرائونڈ’پینتیس اوپن ائر جم’نو کلائمبنگ وال’پانچ سینتھیٹک ٹینس کورٹس’چار مارشل آرٹ ہال’آٹھ والی بال اور باسکٹ بال کورٹس ‘دو کرکٹ گرائونڈز’دو فٹبال گرائونڈ’دو سکواش کورٹس ‘دو والکنگ ٹریکس سمیت دیگر منصوبوں پر کام جاری ہے۔اس موقع پر چیف انجینئر ونگ نے ٹھیکہ داروں کو تعمیراتی کام کے معیار پر بریفنگ دی اور ہدایت کی کہ کام کا معیار بہترین ہونا چاہئے اور اس سلسلے میں کسی بھی قسم کی کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔