کھیلوں کے فروغ کے لئے تاریخی اقدامات اٹھا رہے ہیں، اسفندیارخان خٹک

Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

خواتین کو یکساں سہولیات اور مواقع کی فراہمی کیلئے 700 ملین روپے کی لاگت سے ہر ریجن میں جمنازیم بنایا جارہا ہے
ارباب نیاز کرکٹ سٹیڈیم کی اپ گریڈیشن پر ایک ارب نوے کروڑ، حیات آباد گرائونڈ پر994 ملین روپے لاگت آئے گی
انڈر 16 اور انڈر21 گیمز کے میڈلسٹ کھلاڑیوں کے لئے سالانہ 234 ملین روپے کا وظیفہ مقرر کیاگیا ہے
صوبے میں 828 ملین کی لاگت سے 11 ہاکی ٹرفس بچھائی جارہی ہیں جن میںزیادہ تر آخری مراحل میں ہیں،
2204 ملین روپے کی لاگت سے ضم اضلاع میںنئے گرائونڈز بنائے جارہے ہیں،ڈائریکٹرجنرل سپورٹس خیبرپختونخواکی میڈیا سے گفتگو
پشاور( رپورٹ وتصاویر عاصم شیراز) ڈائریکٹر جنرل سپورٹس خیبر پختونخوا اسفندیار خٹک نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت کھیلوں کے فروغ اور کھلاڑیوں کی فلاح و بہبود کے لئے تاریخی اقدامات اٹھا رہی ہے جس کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی ،وزیراعلی خیبر پختونخوا کی ہدایات اور سیکرٹری سپورٹس عابد مجید کی سربراہی میں خواتین کو یکساں سہولیات اور مواقع کی فراہمی کیلئے 700 ملین روپے کی لاگت سے ہر ریجن میں جمنازیم بنایا جارہا ہے ،828 ملین کی لاگت سے 11 ہاکی ٹرفس بچھائی جارہی ہیں جن میںزیادہ تر آخری مراحل میں ہیں، ضم اضلاع میں 2204 ملین روپے کی لاگت سے گرائونڈز بنائے جارہے ہیں۔محکمہ کھیل خیبرپختونخوا کے میگا پراجیکٹ کھیلوں کی ایک ہزار سہولیات کے سلسلے میں جون 2021 تک 150 کھیلوں کی سہولیات مکمل ہوجائیں گی ۔ پانچ ارب پچاس کروڑ روپے کی لاگت سے شروع ہونے والی پانچ سالہ منصوبہ2023 تک مکمل ہوگامیڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے اسفندیار خان خٹک نے کہا کہ کالام میں اپنی نوعیت کا پہلا اور منفرد بین الاقومی معیار کاکرکٹ گرائونڈ تعمیر کیا جائے گا، صوبے میں بین الاقومی کرکٹ کی بحالی کے لئیارباب نیاز کرکٹ سٹیڈیم کی اپ گیڈیشن جاری ہے ساتھ ہی حیات آباد میں بھی کرکٹ گرائونڈ بنایا جا رہا ہے، سیدو شریف میں گرائونڈ جبکہ تمام اضلاع میں سپورٹس کمپلیکس کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے ، جن اضلاع میں سپورٹس کمپلیکس پہلے سے موجود ہیں ان کی تعمیر ومرمت کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ انڈر 16 اور انڈر21 گیمز کے میڈلسٹ کھلاڑیوں کے لئے صوبائی حکومت کی جانب سے وظیفہ مقرر کرنا بہترین اقدام ہے جس پر سالانہ 234 ملین روپے خرچ کئے جارہے ہیں،خواتین کے لئے ریجنل ہیڈکوارٹر ز سوات،بنوں،ڈیرہ اسماعیل خان،کوہاٹ، مردان، ایبٹ آباد اور پشاور میں جمز تعمیر کئے جائیں گے جن پر7 سو ملین لاگت آئے گی، ہاکی کے فروغ کے لئے 11 ہاکی ٹرفس بچھائی جارہی ہیں جن میں تین پرانی ہیں جبکہ 8 نئی ہیں،ضلع چارسدہ اور اسلامیہ کالج پشاور میں ٹرف بچھانے کاکام مکمل ہوگیا سوات،کوہاٹ اور ڈی آئی خان میں آخری مراحل میں ہے جبکہ ایبٹ آباد،نوشہرہ اورباجوڑ، میں ٹراف بچھانے کی منظوری دے دی گئی ،پشاور،مردان اور بنوں میں دوبارہ نئی ٹراف بچھانے کی بھی منظوری دی گئی ہے۔ اضلاع میں ہاکی ٹرف کے لئے 828 ملین کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے ،چارسدہ ٹرف پر87 ، اسلامیہ کالج پر 91 ملین روپے کی لاگت آئی ہے جبکہ سوات پر 99،کوہاٹ پر 91،ڈی آئی خان پر 91، ایبٹ آباد پر 115،نوشہرہ پر 123، باجوڑ پر 130 ملین لاگت آئے گی۔انہوں نے کہا کہ ضم اضلاع میں مختلف منصوبوں کیلئے 2204 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں جس میں باجوڑ کے لئے 348 ملین،مہمند کے لئے 70 ،خیبر 300،اورکزئی 35 ملین،جنوبی وزیراستان 177،کرم 512 اور 154، اورشمالی وزیرستان کے لئے 208 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ارباب نیاز کرکٹ سٹیڈیم کی اپ گریڈیشن پر ایک ارب نوے کروڑ، حیات آباد گرائونڈ پر994 ملین روپے لاگت آئے گی جس سے صوبے میں بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی ممکن ہوسکے گی۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان کی ہدایت پر سیدو شریف میں بھی بین الا قوامی معیار کا سپورٹس گرونڈ کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے۔ اسفندیار خان نے کہا کہ نوشہرہ،کوہاٹ،بونیراورسوات میں نئے سپورٹس جمنازیم تعمیر کئے جارہے ہیں، حیات آباد،کوہاٹ اور ہری پور میں نئے سوئمنگ پول جبکہ مردان،چارسدہ اور پشاور کے سوئمنگ پول میں تعمیراتی کام منصوبے کا حصہ ہے۔انہوں نے بتایا کہ انڈر21 گیمز کا دوسرا اور آخری مرحلہ مارچ میں شروع ہوگا جس کیلئے ٹرائلز کا آغاز ہوچکا ہے ، گزشتہ دوسالوں میں محکمہ کھیل خیبرپختونخوا نے 33 ویں نیشنل گیمز ، بین الصوبائی گیمز ، خصوصی افراد کے نیشنل گیمز ، انڈر16 نیشنل جونیئر گیمز ،انڈر16 ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام اور انڈر21 گیمز کے میگاایونٹس منعقد کرائے ، سائوتھ ایشین گیمز کی میزبانی کیلئے صوبیمیں عالمی معیار کی سہولیات موجود ہیں ۔